میرے والد صاحب وفات پا گے ہیں اور رقبہ میرے نام ہو گیا ہے لیکن ہمارا رقبہ مشترکہ ہے دونوں چاچو کے ساتھ لیکن ہم نے خاندانی تقسیم کی ہوئی ہے اور دوسرے چاچو نے اپنے رقبے سے اپنا حصہ سیل کر دیا ہے کافی اور اب ہمارا حصہ سیل کرنا چاہتے ہیں لیکن میں اپنا حصہ الگ کرنا چاہتا ہوں ہماری سب کی ٹوٹل ستائیس کھیوٹ ہیں کیا ہمارا سارا رقبہ الگ ہو سکتا ہے؟
جی ہاں، آپ کا رقبہ مکمل طور پر قانونی طور پر الگ ہو سکتا ہے، بشرطیکہ آپ قانونی طریقہ کار کے مطابق زمین کی تقسیم کروائیں۔ چونکہ زمین فی الحال مشترکہ ہے لیکن استعمال میں علیحدہ ہے، آپ اس موجودہ خاندانی تقسیم کو قانونی حیثیت دے سکتے ہیں تاکہ آپ کا حصہ باقاعدہ طور پر آپ کے نام پر علیحدہ فرد میں درج ہو جائے۔
زمین کی تقسیم کا طریقہ کار:
سب سے پہلے آپ تحصیل دار یا متعلقہ پٹواری کے دفتر میں ایک سادہ درخواست دیں گے کہ آپ مشترکہ زمین کی تقسیم چاہتے ہیں تاکہ آپ کا حصہ علیحدہ ہو سکے۔
پٹواری موقع پر جا کر معائنہ کرے گا اور ایک نقشہ تیار کرے گا جس میں ہر شریک کے زیر استعمال حصہ کی نشاندہی کی جائے گی۔
اگر دوسرے شریک (مثلاً آپ کے چچا) اس تقسیم پر رضامند ہوں تو وہ زمین کو باضابطہ طور پر آپس میں تقسیم کر دیں گے، اور آپ کو الگ کھیوٹ نمبر اور فرد ملکیت جاری ہو جائے گی۔
اگر کوئی شریک تقسیم پر رضامند نہ ہو تو آپ ریونیو عدالت یا اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر میں “درخواست برائے تقسیم / حدبندی” دائر کر سکتے ہیں۔ عدالت ریکارڈ اور موقع کی جانچ کے بعد فیصلہ کرے گی۔
ضروری دستاویزات:
شناختی کارڈ
والد صاحب کا انتقال اور وراثتی انتقال کا ریکارڈ
موجودہ فرد ملکیت
پٹواری سے حاصل کردہ موضع کا نقشہ
شریک مالکان کی رضامندی (اگر ممکن ہو)
27 کھیوٹ کی صورت:
اگر آپ کی زمین 27 کھیوٹ میں تقسیم ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کا حصہ مختلف جگہوں پر بکھرا ہوا ہے۔ تقسیم کے بعد آپ کا حصہ ایک یا چند مخصوص کھیوٹوں میں مکمل کر کے علیحدہ کر دیا جائے گا تاکہ آپ اس پر مکمل اختیار حاصل کر سکیں۔
نتیجہ:
آپ کا حصہ علیحدہ کیا جا سکتا ہے، قانونی طور پر اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ اگر تمام شریک رضامند ہوں تو یہ کام بہت آسان ہو جائے گا۔ بصورت دیگر آپ کو ریونیو عدالت کے ذریعے اپنی تقسیم کروانا ہو گی، جو ایک جائز قانونی راستہ ہے۔
باقی حصہ دار تقسیم کے لیے رزہ مند نہیں ہیں
اگر باقی حصہ دار (یعنی آپ کے چچا یا شریک مالکان) تقسیم پر رضامند نہیں ہیں، تو بھی آپ کا قانونی حق ہے کہ آپ اپنے حصے کی عدالتی یا قانونی تقسیم (Judicial Partition) کروا سکیں۔ قانون آپ کو یہ حق دیتا ہے کہ اگر زمین مشترکہ ہو، اور باقی شریک تقسیم پر راضی نہ ہوں، تب بھی آپ عدالت یا ریونیو آفس کے ذریعے اپنا حصہ علیحدہ کروا سکتے ہیں۔
جب شریک تقسیم پر راضی نہ ہوں، تو کیا کیا جائے؟
1. درخواست برائے تقسیم بذریعہ محکمہ مال (ریونیو ڈپارٹمنٹ)
آپ تحصیلدار یا اسسٹنٹ کمشنر کے پاس “درخواست برائے حدبندی و تقسیم” جمع کرائیں۔
درخواست میں یہ لکھیں کہ:
زمین مشترکہ ہے
خاندانی تقسیم عملاً ہو چکی ہے
باقی شریک قانونی تقسیم پر رضامند نہیں
میں قانونی طور پر اپنا حصہ علیحدہ کروانا چاہتا ہوں
2. محکمہ مال موقع پر معائنہ کرے گا
پٹواری اور تحصیلدار موقع پر جا کر زمین کی پیمائش اور موجودہ استعمال کی جانچ کریں گے
اگر اعتراض ہو تو تحصیلدار/AC اعتراض سن کر فیصلہ دے سکتا ہے
3. اگر محکمہ مال تقسیم نہ کرے (کسی اعتراض کی وجہ سے)
تو آپ سول کورٹ (عدالت) میں “دعویٰ تقسیم ملکیت” (Partition Suit) دائر کریں
عدالت ریکارڈ، گواہوں اور استعمال کی بنیاد پر زمین کی باقاعدہ تقسیم کا حکم دے گی
عدالت میں کیس کے لیے درکار چیزیں:
والد صاحب کی وراثت کا انتقال
زمین کا موجودہ ریکارڈ (فرد، کھیوٹ، نقشہ)
باقی شریک مالکان کے نام و تفصیل
آپ کی طرف سے تحریری درخواست
اگر خاندانی تقسیم کا کوئی ثبوت یا گواہ ہوں تو وہ بھی مددگار ہوگا
عدالتی تقسیم میں کیا ہوتا ہے؟
عدالت سب فریقین کو سنے گی
ہر شریک کے حصے کا حساب لگائے گی
اگر ممکن ہو تو زمین کو عملی طور پر تقسیم کرے گی
ورنہ نیلامی یا بٹوارے کا کوئی اور مناسب طریقہ تجویز کرے گی
آخر میں آپ کو آپ کے حصے کی “الگ فرد ملکیت” جاری ہو گی
درخواست کا نمونہ
درخواست برائے تقسیم اراضی
محترم تحصیل دار صاحب
تحصیل _______، ضلع _______
موضوع: مشترکہ اراضی کی تقسیم (شرکہ زمین کا بٹوارہ)
محترم جناب!
باادب گزارش ہے کہ میرے والد محترم جناب __________ (مرحوم) کا انتقال ہو چکا ہے، اور ان کے نام پر موجود زرعی زمین قانونی وراثت کے تحت میرے نام منتقل ہو چکی ہے۔ یہ زمین مشترکہ ہے جس میں میں اور میرے چچا (جن کے نام: __________ اور __________ ہیں) شریک ہیں۔
اگرچہ عملی طور پر ہم سب نے باہمی رضامندی سے زمین کی خاندانی تقسیم کر رکھی ہے، لیکن اب میں چاہتا ہوں کہ یہ تقسیم قانونی طور پر محکمہ مال میں درج ہو تاکہ ہر شریک کا حصہ علیحدہ ہو جائے۔
لہٰذا آپ سے مؤدبانہ درخواست ہے کہ مذکورہ زمین کی موقع پر نشاندہی کر کے نقشہ تیار کیا جائے، اور زمین کو ہر شریک کے الگ الگ حصہ میں تقسیم کر کے ہمارے نام پر فرد ملکیت جاری کی جائے۔
تفصیلات:
کل کھیوٹ کی تعداد: 27
موضع: __________
تحصیل: __________
ضلع: __________
رقبہ میرے زیر استعمال: ________ کنال / مرلے (اگر معلوم ہو)
میں تمام مطلوبہ دستاویزات درخواست کے ساتھ منسلک کر رہا ہوں، اور ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کو تیار ہوں۔
آپ کی مہربانی ہو گی اگر جلد از جلد موقع پر آ کر کارروائی فرمائی جائے۔
شکریہ۔
خیراندیش
نام: __________
ولد: __________
شناختی کارڈ نمبر: __________
پتا: __________
موبائل نمبر: __________
تاریخ: __________
دستخط: __________
کس طرح تقسیم ہو گی جو خاندانی تقسیم ہے اسی حساب سے ہو گی یا ہر کھیوٹ میں تین حصے ہوں گے؟
یہ ایک بہت اہم سوال ہے، اور زمین کی تقسیم کا طریقہ آپ کے بیان کردہ دو ممکنہ طریقوں میں سے کسی ایک پر منحصر ہوتا ہے۔ آئیے تفصیل سے سمجھتے ہیں:
زمین کی تقسیم دو طریقوں سے ممکن ہے:
1. خاندانی تقسیم (Amicable Partition / Practical Division) کے مطابق
اگر آپ، آپ کے چچا، اور دیگر شریک زمین خاندانی تقسیم پر رضامند ہیں، تو زمین اسی حساب سے تقسیم کی جا سکتی ہے۔ اس صورت میں:
جو زمین آپ پہلے سے استعمال کر رہے ہیں، وہی آپ کے حصے میں آ سکتی ہے
پٹواری موقع پر آ کر یہ دیکھے گا کہ کون کون سا حصہ کس کے زیرِ استعمال ہے
سب شریک تحریری یا زبانی طور پر یہ تسلیم کریں گے کہ جو جس جگہ کا مالک بننا چاہتا ہے، وہ اسے دے دیا جائے
پھر نقشہ اور فرد ملکیت اسی تقسیم کے مطابق تیار ہو گا
یہ طریقہ آسان اور تیز ہوتا ہے، بشرطیکہ سب شریک راضی ہوں۔
2. ہر کھیوٹ میں قانونی تین حصے (Mathematical / Proportional Division)
اگر کوئی شریک خاندانی تقسیم پر متفق نہ ہو، یا اس پر اختلاف ہو، تو پھر زمین کو قانونی، برابر تناسب سے تقسیم کیا جائے گا، جیسے:
اگر تین شریک ہیں تو ہر کھیوٹ کا تین برابر حصوں میں بٹوارہ ہو گا
اور پھر ہر شریک کا ایک حصہ ہر کھیوٹ میں شمار ہو گا
اس عمل کے بعد کوشش کی جاتی ہے کہ ہر شریک کو ایک ہی جگہ زمین کا مجموعہ دیا جائے (consolidation) تاکہ زمین منتشر نہ ہو
یہ طریقہ تھوڑا پیچیدہ اور وقت طلب ہوتا ہے، اور بعض اوقات عدالت کی مداخلت بھی درکار ہوتی ہے۔
آپ کی صورتحال کے مطابق بہترین حل:
چونکہ آپ نے بتایا ہے کہ:
خاندانی تقسیم پہلے سے ہو چکی ہے
ایک چچا نے اپنا حصہ بیچ بھی دیا ہے
آپ کا دوسرا چچا اور آپ اب سیل کرنا چاہتے ہیں
تو بہتر یہی ہو گا کہ خاندانی تقسیم کو قانونی شکل دی جائے۔
یعنی وہی زمین جو آپ کے زیرِ استعمال ہے، وہی آپ کے نام پر کر دی جائے، اور یہی سب سے آسان، عملی اور کم تنازع والا طریقہ ہے۔
اہم مشورہ:
پٹواری یا قانونگو سے موقع پر جا کر بات کریں، اور تمام شریکوں کی رضامندی ظاہر کریں
اگر ممکن ہو تو شریک مالکان سے تحریری رضامندی (بیان حلفی) بھی حاصل کریں
اگر اختلاف نہ ہو تو یہ عمل 1 سے 2 ماہ میں مکمل ہو سکتا ہے