سر گذارش ہے کہ ہم نے ذمین ۲۰۰۵ میں لی تھی ہمارا قبضہ بھی تب سے ہے اب پتا چلا کہ جس خسرہ نمبر میں قبضہ ہے اسکا انتقال کسی اور کے نام ہوگیا اور ہمارا خسرہ اور ہے جبکہ ذمین جن سے ہم نے لی وہ اسی حصے پر قابض تھے جس پر أج ہم ہیں۔
مسلہ یہ ہوا تھا کہ ۵۶۰ کنال کا مشترکہ کھاتہ تھا ایک فرد نے صرف دو کنال ذمین خرید کرنے پر ۵۶۰ کنال میں سے ۱۵ کنال کا الگ کھاتا بنا دیا تھا
اس وقت کے پٹواری نے غیر قانونی طور پر مشترکہ کھاتا میں سے ۱۵ کنال کا الگ کھاتا بنا کر مشکلات میں پھنسا دیا
اب عرض یہ ہے کہ جس رقبہ پر ۲۰سال سے قابض ہیں اس میں رھنے کے لیے غیر قانونی طور پر کی گئ تقسیم کو ختم کرایا جا سکتا ہے کیا اسکا طریقہ کار کیا ہے
آپ کا مسئلہ زمین کے انتقال، قبضے، اور غیر قانونی تقسیم سے متعلق ہے، جو کہ اکثر دیہی علاقوں میں زمین کے مشترکہ کھاتوں میں پیش آتا ہے۔ آپ کی درخواست کے مطابق، آپ ۲۰۰۵ سے ایک رقبے پر قابض ہیں، لیکن اب معلوم ہوا ہے کہ جس خسرہ نمبر پر آپ قابض ہیں، اس کا انتقال کسی اور کے نام ہو چکا ہے، جب کہ آپ کی اصل خرید کردہ زمین کسی اور خسرہ میں ظاہر ہو رہی ہے۔
مسئلے کی نوعیت:
سوال:
کیا ۲۰ سال سے جس زمین پر آپ قابض ہیں، اس کی غیر قانونی تقسیم کو ختم کروا کر اصل قبضے کے مطابق ریکارڈ درست کروایا جا سکتا ہے؟
جواب:
جی ہاں، قانون میں اس کا حل موجود ہے، لیکن اس کے لیے آپ کو مناسب قانونی اور ریونیو (محکمہ مال) طریقہ کار اختیار کرنا ہو گا۔
طریقہ کار:
1. درخواست برائے درستگی ریکارڈ (تصحیح فرد/خسرہ)
آپ تحصیلدار یا اسسٹنٹ کمشنر (ریونیو) کے پاس درخواست دے سکتے ہیں کہ:
2. ثبوت جمع کریں:
3. درخواست عدالت یا ریونیو آفس میں:
4. کروائی برائے غیر قانونی تقسیم کو چیلنج کرنا:
قانون میں مددگار نکات:
سفارشات:
اگر آپ چاہیں تو میں ایک درخواست کا نمونہ بھی تیار کر سکتا ہوں جو آپ تحصیلدار یا عدالت میں جمع کروا سکیں۔
کیا آپ کو وہ درکار ہے؟