آپ کے مسئلے کا حل ممکن ہے، کیونکہ آپ کے چچا اس بات کو مان چکے ہیں کہ آپ کا دو کنال رقبہ غلطی سے اُن کی طرف چلا گیا تھا، اور وہ اسے واپس کرنے پر راضی ہیں۔ اب چونکہ معاملہ باہمی رضامندی سے حل ہو رہا ہے، آپ عدالتی کارروائی کے بغیر بھی اسے باقاعدہ اور قانونی طریقے سے نمٹا سکتے ہیں، اور کم سے کم فیس میں اپنے نام رقبہ کرا سکتے ہیں۔
ممکنہ طریقہ (کم خرچ اور قانونی)
1. بیع نامہ یا رضاکارانہ ہبہ (گفٹ ڈیڈ / حبہ نامہ)
آپ کے چچا اپنے دو کنال رقبے کا آپ کے نام ہبہ (گفٹ) کر سکتے ہیں، کیونکہ:
- یہ باہمی رضامندی سے ہوگا
- کسی مالی لین دین کی شرط نہیں
- اس پر رجسٹری فیس اور ٹیکسز کم لگتے ہیں
فائدہ:
اس میں اسٹامپ ڈیوٹی اور رجسٹری فیس نسبتاً کم ہوتی ہے کیونکہ یہ بطور گفٹ/ہبہ دی جا رہی ہے، نہ کہ بیع کے طور پر۔
ہبہ (Gift) کرنے کا طریقہ:
- محضری کاغذات تیار کروائیں:
- کسی وکیل یا مستند محرر سے حبہ نامہ (گفٹ ڈیڈ) تیار کروائیں
- اس میں صاف طور پر لکھا جائے کہ یہ رقبہ غلطی سے چلا گیا تھا اور اب اسے اصل وارث/مالک کو دیا جا رہا ہے
- بیان و دستخط:
- چچا (ہبہ دینے والے) اور آپ (حصول کنندہ) کا شناختی کارڈ لگائیں
- گواہوں کے بیان بھی شامل کریں
- اسے رجسٹری برانچ میں جمع کروایا جائے
- رجسٹریشن:
- رجسٹرار کے سامنے گفٹ ڈیڈ کی رجسٹری کروائیں
- اگر ممکن ہو تو بیان حلفی بھی جمع کروایا جائے
2. انتقال (Mutation) کروائیں
رجسٹری ہونے کے بعد، آپ تحصیل دار یا پٹواری کے پاس جا کر اس کا انتقال (فرد تبدیل) کروائیں تاکہ زمین کا ریکارڈ آپ کے نام پر ہو جائے۔
لاگت کم کرنے کے لئے مشورہ:
- بصورت ہبہ (گفٹ) اسٹامپ ڈیوٹی اور رجسٹری فیس 1% یا اس سے کم ہو سکتی ہے (صوبے کے حساب سے فرق ممکن ہے)
- بیع نامے کی صورت میں فیس زیادہ ہوتی ہے (2% سے 5% تک)
- اس لیے ہبہ نامہ کا راستہ آپ کے لیے سب سے قانونی اور کم خرچ طریقہ ہوگا
نوٹ:
اگر زمین مشترکہ خسرہ میں ہے تو اس کا باقاعدہ تقسیم نامہ یا انتقال بجہ ہبہ درج کروانا بھی ضروری ہوگا تاکہ ریکارڈ درست رہے اور آئندہ کوئی تنازع نہ ہو۔
بہت شکریہ جزاک اللہ