اللہ آپ کے والدین پر رحم فرمائے۔
آپ کا سوال بہت اہم ہے:
آپ کے والدین کا پانچ مرلہ کا گھر ہے، جو غالباً والد یا والدہ کے نام پر تھا، اور ان کے انتقال کے بعد اب وہ گھر وراثت میں آ گیا ہے۔ آپ چاہتے ہیں کہ وہ گھر آپ کے حصے میں آ جائے یا آپ اکیلے کے نام پر ہو جائے، تو اس کے لیے مکمل طریقہ کار نیچے بیان کر رہا ہوں۔
✅ وراثتی گھر کو اپنے نام لینے کا طریقہ (قانونی طریقہ کار):
1. وراثتی انتقال (وراثت نامہ) کروائیں:
- سب سے پہلے آپ کو والد یا والدہ کی وراثتی انتقالی کارروائی مکمل کرنی ہوگی، تاکہ ان کی جائیداد قانونی طور پر ان کے تمام بچوں کے نام پر منتقل ہو۔
- اس کے لیے:
- ڈیتھ سرٹیفکیٹ (والد یا والدہ کا)
- ورثاء کا شناختی کارڈ
- نکاح نامہ / فیملی سرٹیفکیٹ
- بیانِ حلفی (تمام ورثاء سے)
- درخواست انتقال (انٹیقال)
2. تمام بہن بھائیوں سے اجازت لیں (رضامندی):
- چونکہ گھر تمام بہن بھائیوں کی مشترکہ وراثت بن چکا ہے، اس لیے آپ اکیلا مالک نہیں بن سکتے جب تک سب بہن بھائی تحریری طور پر رضا مند نہ ہوں۔
- آپ کو چاہیے کہ تمام 5 بھائیوں اور 4 بہنوں سے رضامندی لیں کہ وہ اپنا حصہ آپ کو دے رہے ہیں۔
- یہ عمل بیانِ حلفی یا Registered Gift Deed (حبہ نامہ) کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔
3. حبہ نامہ (Gift Deed) یا انحصار نامہ:
- اگر سب بہن بھائی آپ کے حق میں حصہ چھوڑنے کو تیار ہوں تو وہ حبہ نامہ کے ذریعے آپ کو اپنا حصہ تحفے میں دے سکتے ہیں۔
- یہ دستاویز نوٹری پبلک / وکیل کے ذریعے رجسٹرڈ ہونی چاہیے۔
4. ریکارڈ میں تبدیلی:
- تمام قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد آپ پٹواری / اراضی ریکارڈ سنٹر میں جا کر زمین یا گھر کا ریکارڈ اپنے نام کروا سکتے ہیں۔
⚠️ اگر کوئی بھائی یا بہن رضامند نہ ہو:
- تب آپ کو ان کے ساتھ افہام و تفہیم سے بات کرنی ہوگی۔
- یا پھر عدالت کے ذریعے حصہ داری یا تقسیم جائیداد (Partition Suit) کا کیس کرنا پڑے گا۔
📄 ضروری دستاویزات:
- شناختی کارڈز (تمام ورثاء کے)
- والد/والدہ کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ
- گھر کے کاغذات
- فیملی سرٹیفکیٹ / شجرہ نسب
- بیان حلفی / حبہ نامہ
Allah aap ke walidain par reham farmaye.
Aap ka sawal hai ke aap ke walidain ka 5 marla ka ghar hai, aur aap chahte hain ke wo aap ke naam ho jaye — jabke aap ke 5 bhai aur 4 behnein hain. To iska qanooni tareeqa ye hai:
✅ Ghar ko apne naam lene ka tareeqa (Roman Urdu mein):
1. Virasati Inteqal (Wirasat Nama):
Sabse pehle aap ko virasat ka inteqal karwana hoga. Matlab, aap ke walid ya walida ke naam pe jo ghar hai, wo un ke saare warisoon ke naam transfer ho.
Is ke liye zaroori documents:
- Death certificate (walid/walida ka)
- CNIC copies sab warisoon ki
- Family Certificate / Nadra ka shanakhti record
- Bayaan-e-halfi ke sab waris tasdeeq karen
- Inteqal ki darkhwast
2. Bhai behno se razamandi hasil karein:
Ghar ab sab warisoon ka hai — agar aap chahtay hain ke sirf aap ke naam ho, to aap ko tamam bhai behno se razamandi hasil karni hogi.
Yeh razamandi likhi hui honi chahiye:
- Bayaan-e-halfi ke zariye
- Ya phir Gift Deed (Hiba Nama) ke zariye — jismein likha ho ke wo log apna hissa aap ko de rahe hain
3. Hiba Nama ya Razamandi:
Sab bhai behn agar razi hain ke wo ghar ka hissa aap ko dey dein, to Hiba Nama banwaya jaye, jo registered ho (notary public ya wakeel ke zariye).
4. Record mein tabdeeli:
Phir aap yeh documents le kar Patwari ya Land Record Center mein jaa ke ghar ko apne naam karwa sakte hain.
⚠️ Agar koi razi na ho:
Agar koi bhai ya behn razi nahi hota, to aap ko un ke saath baat cheet karke masla hal karna hoga.
Warna phir aap ko court mein Partition Suit (taqseem-e-jaydad ka case) daakhil karna padega.
📄 Zaroori Documents:
- CNIC copies sab warisoon ki
- Death certificate
- Ghar ke kagzaat
- Family certificate / shajra
- Bayaan-e-halfi ya Hiba Nama