رقبہ رہن اور کچھ بلا رہن تھا.

قیام پاکستان کے وقت کچھ (مشترکہ) رقبہ رہن اور کچھ بلا رہن تھا اور اس رقبہ کے کچھ مالک انڈیا چلے گئے کچھ پاکستان میں رہ گئے۔
اب قیام پاکستان کے بعد

وہ رقبہ جس کے مالک انڈیا چلے گئے وہ وہاں سے آئے مہاجر کو الاٹ ہو گیا۔

جو مالک پاکستان رہ گئے وہ ان کے پاس رہا۔

جو رہن رقبہ تھا جس مالک چاہے انڈیا چلے گئے یا پاکستان رہ گئے وہ بھی مہاجر کو الاٹ ہو گیا۔

مسئلہ۔
اب جو مہاجر پاکستان رہ گیا وہ کہتا کہ اس رہن رقبہ میں سے اس کے حصہ کے مطابق اس کو دیا جائے جبکہ نہ تو اس نے اپنی زمین رہن سے آزاد کروائی اور نہ الاٹمنٹ کے وقت کوئی اعتراض کیا۔

کیا اس شخص کو اس کے دعوے کے مطابق زمین دینی چاہیے یا کہ وہ اپنا حق کھو چکا ہے ؟
دوم
اگر بالفرض اس کے دعوے کے مطابق اس کو زمین دے دی جائے تو مہاجر سے آگے خریدار کو جو رقبہ میں کمی ہو گی اس کا کیا ازالہ ہو سکتا ہے اور کون کرے گا ؟؟؟

تفصیلی جواب کی درخواست کی جاتی ہے۔
اس کے لیے معقول خرچہ بھی کیا جاسکتا ہے تا کہ معاملہ حل کیا جا سکے۔
ضلع گجرات کا کیس ہے۔
شکریہ والسلام

5 1 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
8 Comments
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments
Malik
Malik
10 months ago

A civil case is in progress from last 8 years but Judge is saying that Which co-sharer not moved to india is entiltled for his share along with property that was mortgaged since 1935.
While his mortgaged share was permanently allotted to a refugee from india and then my grand father purchased from that refugee and proper documentation ie Mutations and Registery was carried out.
Judge is about to decide against us.
What we should do at the earliest.
Thanks

Last edited 10 months ago by Malik
8
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x