قیام پاکستان کے وقت کچھ (مشترکہ) رقبہ رہن اور کچھ بلا رہن تھا اور اس رقبہ کے کچھ مالک انڈیا چلے گئے کچھ پاکستان میں رہ گئے۔
اب قیام پاکستان کے بعد
1۔
وہ رقبہ جس کے مالک انڈیا چلے گئے وہ وہاں سے آئے مہاجر کو الاٹ ہو گیا۔
2۔
جو مالک پاکستان رہ گئے وہ ان کے پاس رہا۔
3۔
جو رہن رقبہ تھا جس مالک چاہے انڈیا چلے گئے یا پاکستان رہ گئے وہ بھی مہاجر کو الاٹ ہو گیا۔
مسئلہ۔
اب جو مہاجر پاکستان رہ گیا وہ کہتا کہ اس رہن رقبہ میں سے اس کے حصہ کے مطابق اس کو دیا جائے جبکہ نہ تو اس نے اپنی زمین رہن سے آزاد کروائی اور نہ الاٹمنٹ کے وقت کوئی اعتراض کیا۔
کیا اس شخص کو اس کے دعوے کے مطابق زمین دینی چاہیے یا کہ وہ اپنا حق کھو چکا ہے ؟
دوم
اگر بالفرض اس کے دعوے کے مطابق اس کو زمین دے دی جائے تو مہاجر سے آگے خریدار کو جو رقبہ میں کمی ہو گی اس کا کیا ازالہ ہو سکتا ہے اور کون کرے گا ؟؟؟
تفصیلی جواب کی درخواست کی جاتی ہے۔
اس کے لیے معقول خرچہ بھی کیا جاسکتا ہے تا کہ معاملہ حل کیا جا سکے۔
ضلع گجرات کا کیس ہے۔
شکریہ والسلام
انتظار کریں
آپ کے سوال کا تعلق قیام پاکستان کے بعد “رہن شدہ” اور “الاٹ شدہ” زمینوں کے قانونی و اخلاقی حقوق سے ہے، خاص طور پر مہاجرین، اصل مالکان، اور خریداروں کے مابین پیدا ہونے والے تنازعات کے تناظر میں۔
نیچے تفصیل سے اس مسئلے کو تین حصوں میں بیان کیا گیا ہے:
پس منظر / Context
قیام پاکستان (1947) کے بعد:
سوال 1:
کیا مہاجر کو اس زمین میں سے حصہ ملنا چاہیے جو رہن (گروی) تھی، حالانکہ:
جواب:
قانونی نقطۂ نظر سے:
نتیجہ:
مہاجر اپنا حق کھو چکا ہے اگر وہ:
سوال 2:
اگر اس مہاجر کو زمین دے دی جائے، تو خریدار کو جو نقصان ہو گا، اس کا ازالہ کون کرے گا؟
جواب:
اگر مہاجر کے دعوے کو مان بھی لیا جائے (for the sake of argument), تو:
قانونی اصول:
خلاصہ / Final Opinion:
اگر آپ چاہیں تو میں اس مسئلے پر ایک درخواست، جواب دعویٰ، یا رٹ پٹیشن کا مسودہ بھی تیار کر سکتا ہوں۔
بس بتائیں کس فریق کی طرف سے بنوانا چاہتے ہیں (مہاجر، خریدار یا اصل مالک)؟
Aap ke sawal ka taalluq “Qiyam-e-Pakistan ke baad reh’n shuda aur allot shuda zameenon ke qanooni aur ikhlaqi huqooq” se hai, khas tor par muhajireen, asal maalikaan, aur kharidaaron ke darmiyan paida hone wale tanaza’at ke tanazur mein.
Neeche tafseel se is maslay ko teen hisson mein bayan kiya gaya hai:
Pas-e-Manzar / Context
Qiyam-e-Pakistan (1947) ke baad:
Sawal 1:
Kya muhajir ko us zameen mein se hissa milna chahiye jo reh’n (girvi) thi, halankeh:
Jawaab:
Qanooni nuqtah-e-nazar se:
Nateeja:
Muhajir apna haq kho chuka hai agar wo:
Sawal 2:
Agar is muhajir ko zameen de di jaye, to kharidaar ko jo nuqsaan ho ga, us ka azaala kaun karega?
Jawaab:
Agar muhajir ke daaway ko maan bhi liya jaye (for the sake of argument), to:
Qanooni Usool:
Kulaasa / Final Opinion:
Agar aap chahain to is maslay par ek daawa, jawab daawa ya ritt petition ka musawada bhi tayar kar deta hoon.
Sirf yeh batayein ke aap kis fareeq ki taraf se document banwana chahte hain? (muhajir, kharidaar, ya asal maalik?
آپ کے سوال کے جواب میں، میں نے پہلے جو قانونی تجزیہ فراہم کیا تھا، وہ پاکستان کے مختلف قوانین اور عدالتی فیصلوں پر مبنی تھا۔ اب میں اس تجزیے کے لیے استعمال ہونے والے اہم قانونی ماخذات اور ان کے متعلقہ نکات کی وضاحت کر رہا ہوں:
متعلقہ قانونی ماخذات اور نکات
خلاصہ
A civil case is in progress from last 8 years but Judge is saying that Which co-sharer not moved to india is entiltled for his share along with property that was mortgaged since 1935.
While his mortgaged share was permanently allotted to a refugee from india and then my grand father purchased from that refugee and proper documentation ie Mutations and Registery was carried out.
Judge is about to decide against us.
What we should do at the earliest.
Thanks
In a complex civil case like this—particularly involving property rights, historical mortgages, refugee allotments, and long-standing possession—your situation is serious, and immediate, strategic legal action is needed.
Here’s what you should urgently consider and do:
✅ Immediate Legal Steps to Take
1. Engage a Senior Civil Lawyer (if not already)
If you’re not already working with a senior civil lawyer who specializes in property and revenue law, engage one immediately. Cases involving refugees, post-Partition allotments, and mortgage disputes require deep knowledge of Pakistan’s evacuee property laws and settlement schemes.
2. File an Application for Additional Evidence (if needed)
If the court is unaware of critical facts—such as:
then your lawyer should file an application under Order 18 Rule 17-A CPC (for producing additional documents or evidence), before the final decision.
3. Highlight Evacuee Property Law & Allotment Legality
You must demonstrate that:
This is supported under various post-Partition settlement acts and Evacuee Property and Displaced Persons laws.
4. If Judgment Goes Against You – File an Appeal Immediately
If the judge still rules against you, file a civil appeal immediately before the District Judge or the High Court, depending on the forum.
Time is critical: Limitation for appeal is usually 30 days, so do not delay.
📁 Documentation You Need (or Must Reaffirm):
⚠️ Legal Points in Your Favor (to Emphasize):
🧑⚖️ Final Advice:
If your current lawyer is not handling this aggressively or lacks experience in refugee allotment and post-Partition laws, you must consult a specialist lawyer immediately, possibly with a retired settlement officer or revenue expert involved.
If you need:
🧾 LEGAL NOTE FOR DEFENCE (REGARDING ALLOTMENT TO REFUGEE & BONA FIDE PURCHASE)
IN THE COURT OF [Name of Court & Judge]
Civil Suit No. [XXXXX]
Title: [Plaintiff] Vs. [Defendants]
Subject: Clarification regarding mortgage, refugee allotment, and lawful purchase by Defendant’s predecessor
Respected Sir,
With due respect, it is humbly submitted on behalf of the Defendants that:
PRAYER:
In light of the above, it is respectfully requested that this Honorable Court kindly:
Submitted by:
[Your/Your Lawyer’s Name]
[Date]
[Contact Details]
🔖 Annexures You Should Attach (if not already submitted):
عدالت عالیہ / سول عدالت [جج صاحب کا نام]
مقدمہ نمبر: [XXXXXXXX]
عنوان: [مدعی] بمقابلہ [مدعا علیہان]
موضوع: وراثتی شریک کا بھارت ہجرت کرنا، پناہ گزین کو الاٹمنٹ، اور قانونی خریداری
محترم جج صاحب،
عجز و انکساری سے گزارش ہے کہ:
درخواست:
مندرجہ بالا نکات کی روشنی میں گزارش ہے کہ عدالت محترم:
بخاکس:
[وکیل یا مدعا علیہ کا نام]
تاریخ: []
رابطہ: []
🧾 پیچیدہ دیوانی مقدمے میں فوری اقدامات – اردو ترجمہ
ایسے پیچیدہ دیوانی مقدمے میں — خاص طور پر جب معاملہ جائیداد کے حقوق، پرانی رہن (mortgage)، پناہ گزینوں کو دی گئی الاٹمنٹ، اور طویل عرصے سے جاری قانونی قبضے سے متعلق ہو — تو آپ کا معاملہ بہت سنجیدہ ہے اور فوری، مؤثر قانونی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔
✅ فوری اقدامات جو آپ کو کرنے چاہئیں:
1. کسی سینئر سول وکیل سے فوری مشورہ لیں
اگر آپ پہلے ہی کسی تجربہ کار وکیل کے ساتھ کام نہیں کر رہے تو کسی سینئر وکیل سے مشورہ کریں جو جائیداد اور ریونیو قوانین میں مہارت رکھتا ہو۔ ایسے کیسز میں مہاجرین، الاٹمنٹ، اور تقسیمِ ہند کے بعد کی پراپرٹی اسکیموں کا علم ضروری ہے۔
2. درخواست برائے اضافی ثبوت دائر کریں (اگر ضروری ہو)
اگر عدالت کو کچھ اہم دستاویزات یا حقائق معلوم نہیں ہیں — جیسے کہ:
تو آپ کا وکیل آرڈر 18 رول 17-A سی پی سی کے تحت اضافی ثبوت جمع کرانے کی درخواست دے سکتا ہے، بشرطیکہ فیصلہ ابھی محفوظ نہ ہوا ہو۔
3. ایویکی پراپرٹی قوانین اور قانونی الاٹمنٹ کو نمایاں کریں
یہ ثابت کریں کہ:
4. اگر فیصلہ خلاف آئے تو فوری اپیل کریں
اگر عدالت فیصلہ آپ کے خلاف دے دیتی ہے تو آپ کو فوراً اپیل دائر کرنی چاہیے — سول جج کے فیصلے کی اپیل ڈسٹرکٹ کورٹ یا بعض اوقات ہائی کورٹ میں کی جاتی ہے۔
نوٹ: اپیل کی مدت اکثر 30 دن ہوتی ہے، تاخیر نہ کریں۔
📁 آپ کو درکار دستاویزات:
⚖️ قانونی نکات جو آپ کے حق میں ہیں:
🔚 آخری مشورہ:
اگر آپ کا موجودہ وکیل اس کیس کو سنجیدگی سے نہیں لے رہا، یا اسے مہاجرین، الاٹمنٹ، اور پراپرٹی کے پرانے قوانین کا مکمل تجربہ نہیں ہے، تو کسی ماہر سینئر وکیل سے فوری رجوع کریں۔