سر میرے دادا نے 2کنال زمین 1968 میں خرید کی اور قبضہ بھی لیا اور مکان بھی بنائے اس وقت کھیوٹ 6کنال پر مشتمل تھی
جبکہ 1972 میں استعمال اراضی ہوا اور ہمارے مکان اسی جگہ موجود ہیں جبکہ ہماری 2کنال جگہ ملک نعیم کے نام ہے جہان ہمارے مکان ہیں
نعیم نے وہ جگہ 2019 میں ملک محبوب
ملک خان پر مالکی بیچ دی ملک محبوب نے 2020 میں دعوہ بے دخلی دائر کر دیا جو سول کورٹ سے خارج ہوا اور محبوب نے سیشن کورٹ میں اپیل کی اور کیس محبوب کے حق میں ہوا
سوال ہی ہے کے ہمارے 2کنال میں 5حویلیاں بنی ہیں جی کی مالیت 2کروڑ کے لگ بگ بنتی ہے اب ہمیں ہائی کورٹ جانا پڑے گا آ پ راہنمائی کریں کہ ہمارا بلڈنگ کا نقصان بچ جائے ۔ہمارے پاس 1972 کا ریکاڈ اور بجلی بل اور ہاؤس بلڈنگ فنانس کا ریکارڈ بھی موجود
انتظار کریں
کافی حد تک راہنمائی ہوئی شکریہ۔ آپ کی مشورہ فیس کیا ہے۔
جو آپ کو بہتر لگۓ۔
آپ کی صورتحال قانونی اور حساس نوعیت کی ہے، اور اس میں فوری اور درست اقدام ضروری ہے۔ آپ کے مطابق:
پس منظر:
1968 میں آپ کے دادا نے 2 کنال زمین خریدی، قبضہ لیا، اور مکان تعمیر کیے۔
1972 سے آپ کے پاس بجلی بل، ہاؤس بلڈنگ فنانس کا ریکارڈ موجود ہے — جو قبضہ اور تعمیر کے شواہد ہیں۔
زمین کی ملکیت کسی وجہ سے “ملک نعیم” کے نام پر منتقل ہو گئی (شاید انتقال یا ریکارڈ کی غلطی سے)۔
ملک نعیم نے یہ زمین 2019 میں “ملک محبوب” کو فروخت کر دی۔
ملک محبوب نے 2020 میں آپ کے خلاف دعویٰ برائے بے دخلی (Eviction Suit) دائر کیا، جو سول کورٹ سے خارج ہو گیا۔
سیشن کورٹ میں محبوب کی اپیل منظور ہوئی اور فیصلہ اس کے حق میں آ گیا۔
اب آپ کے پاس ہائی کورٹ کا آپشن ہے۔
آپ کو کیا کرنا چاہیے؟
1. ہائی کورٹ میں Regular Second Appeal / Revision Petition دائر کریں:
آپ کے وکیل کو ہائی کورٹ میں ایک اپیل یا نظرِ ثانی (Revision / Second Appeal) دائر کرنی ہو گی۔
اپیل میں درج ذیل نکات شامل کیے جائیں:
2. ثبوتوں کی بنیاد پر اپنا کیس مضبوط کریں:
1972 سے قابض ہونے کے شواہد:
بجلی کے بل، ٹیکس بل، واٹر سپلائی بل، ہاؤس بلڈنگ فنانس ریکارڈ، تصاویر، گواہان۔
تعمیرات کے شواہد:
5 حویلیاں، ان کی تصاویر، نقشے، گواہوں کے بیانات، پراپرٹی ٹیکس، مالیت کا تخمینہ۔
قابض کی حیثیت سے قانون کا سہارا:
قانون کے مطابق، اگر کوئی فرد 12 سال یا اس سے زائد بے دخل کیے بغیر قابض رہے تو اسے “قانونی قابض (Adverse Possession)” تصور کیا جا سکتا ہے۔
قانونی نکات جو آپ کے حق میں جا سکتے ہیں:
Adverse Possession (مستقل قبضہ):
اگر آپ 12 سال سے زائد عرصہ زمین پر قبضے میں ہیں، تو آپ ہائی کورٹ میں یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ آپ کا قبضہ قانونی ہو گیا ہے۔
Equity and Estoppel:
چونکہ آپ نے نیک نیتی سے تعمیر کی اور حکومت کے ساتھ بلز اور قرضہ لیا، تو عدالت آپ کی سرمایہ کاری کو ضائع ہونے سے بچانے کی کوشش کر سکتی ہے۔
Section 41 of Transfer of Property Act:
اگر آپ “بے خبر خریدار” یا “مالک بننے کی نیت سے” قابض ہیں، تو عدالت اس پہلو کو بھی دیکھے گی۔
فوری اقدامات:
✅ ایک تجربہ کار سِول و پراپرٹی وکیل سے رابطہ کریں، خاص طور پر وہ جو ہائی کورٹ میں پیش ہو سکتے ہوں۔
✅ تمام ثبوت (بل، تصاویر، گواہان کے بیانات، فنانس ریکارڈ) کو منظم کریں اور وکیل کے ساتھ شیئر کریں۔
✅ وکیل سے درخواست کریں کہ ہائی کورٹ میں فوری Stay Order (حکمِ امتناعی) دائر کریں تاکہ جب تک فیصلہ نہ ہو، آپ کو بے دخل نہ کیا جا سکے۔
آخری بات:
یہ معاملہ ایک طرف ملکیت کے کاغذات اور دوسری طرف قبضے اور تعمیرات کے حقیقی شواہد پر مبنی ہے۔ ہائی کورٹ میں اگر آپ کا وکیل مضبوط طریقے سے یہ ثابت کر دے کہ آپ 50+ سال سے قابض اور تعمیراتی سرمایہ کاری کر چکے ہیں، تو عدالت آپ کو ریلیف دے سکتی ہے یا کم از کم معاوضہ / تحفظ فراہم کر سکتی ہے۔
good